16 ستمبر 2011 - 19:30

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے شیعہ دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شہدائے ملت جعفریہ کے ہزاروں شہداء کے قاتلوں کے خلاف از خود نوٹس لینے سے گریز کریں گے۔

 ابنا: شیعت نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز سپریم کورٹ رجسٹری میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد نے شہدائے ملت جعفریہ کے ہزاروں شہداء کے قاتلوں کی گرفتاری کے سلسلے میں ایک درخواست پیش کی تھی جس کے جواب میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا ناظر عبا س تقوی کو عدالت میں پیش ہونے کا کہا تاہم ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں مولانا ناظر تقوی کے پیش ہونے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے درخواست پر سماعت کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ کے شہداء کی ٹارگٹ کلنگ بھی کراچی کے ٹارگٹ کلنگ کیس میں ایک شہری کی حیثیت سے کی جا رہی ہے چنانچہ اس درخواست کی کوئی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں کراچی کے  ایک سو سے زائد شہری مارے گئے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کراچی میں کیس کی سماعت کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں سے کرم ایجنسی پاراچنار سے لے کر کراچی تک ملت جعفریہ دہشت گردوں کی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بے گناہ شیعہ نوجوان بشمول اسی سے زائد ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء اور بیوروکریٹس سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر طبقے کے افراد شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی ہوئے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو کبھی بھی ملت جعفریہ کی نسل کشی نظر نہیں آئی اورنہ ہی انہوں نے کسی بھی مسئلے پر جس میں ملت جعفریہ کے عمائدین ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے ، ازخود نوٹس نہیں لیا ۔یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ کراچی میں سانحہ عاشورا، اربعین، لاہور میں سانحہ یوم علی(ع) سمیت کوئٹہ میں ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ، سانحہ عید کوئٹہ، سانحہ القدس ریلی کوئٹہ سمیت ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی ملت جعفریہ کی نسل کشی اور پاراچنار میں شیعیان پاکستان کے خلاف طالبان دہشت گردوں کی کاروائیاں بھی چیف جسٹس کی نظرو ں سے اوجھل ہیں کہ جن پر انہوں نے آج تک کسی قسم کی کاروائی کرنے کا نہ تو مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی از خود نوٹس لینے کی زحمت کی ہے۔گذشتہ روز سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ کراچی میں گذشتہ ماہ ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے ازخود نوٹس کی سماعت میں، کراچی میں ہونے والے سانحہ عاشورا، سانحہ اربعین سمیت۔ ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے کے لئے کیس کی سماعت کریں اور ملت جعفریہ کو انصاف فراہم کریں، لیکن افسوسناک بات یہ کہ چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر شیعہ دشمنی کی بناء پر اس درخواست کی سماعت کرنے سے گریز کیا ،جس پر ملت جعفریہ کے عمائدین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔دوسری جانب گذشتہ روز ہی شہدائے ملت جعفریہ کے اہل خانہ نے بڑی تعداد مین کراچی پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس میں چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کو انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے پیاروں کے قاتلوں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے، مظاہرین کاکہنا تھا کہ عدالتیں ایک طرف تو دہشت گردوں کو سزا دینے میں ناکام ہیں تو دوسری طرف درجنوں مقدمات کا بوجھ لئے ہوئے کالعدم دہشت گرد گروپوں کے دہشت گردوں اور ان کے سرغنوں کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ تحریر علی جون............

/169

نوٹ:اس رپورٹ کا منبع (سورس) رپورٹ کے اوپر درج کیا گیا ہے چنانچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ادارہ (ابنا) بھی اس رپورٹ سے متفق ہو اور اس رپورٹ کے اندراج سے ہمارا مقصد حقائق تک پہنچنا ہے ظاہر ہے کہ معقول انداز میں لکھی گئی آراء اس رپورٹ کے ذیل میں درج ہونگی۔